دور جہاں

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - زمانہ، دنیا۔  دور جہاں سے ساقیا سرد ہوا ہے دل مرا برف و شراب کی جگہ برق و شرر پلائے جا      ( ١٩٤٦ء، طیور آوارہ، ١٣١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دور' کے ساتھ فارسی سے اسم جامد 'جہاں' لگا کر مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اس میں 'دور' مضاف اور 'جہاں' مضاف الیہ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٤٦ء کو "طیور آوارہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر